اے بندہ خدا؛ اپنی قدر پہچان

The human beings are a special creation and humans have shown that specialty in many ways and means. The human being are full of potential and whomsoever takes initiative reflects outstanding performance and efficiency. This write up "اے بندہ خدا؛ اپنی قدر پہچان" is an opinion about the same.

Jun 25, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

اے بندہ خدا؛ اپنی قدر پہچان

 

 ایٹم تمام مادے کا بنیادی تعمیراتی بلاک ہے اور کسی بھی عنصر کی سب سے چھوٹی اکائی ہوتا ہے۔ ایٹم ناقابل یقین حد تک ایک چھوٹا جوہری ذرہ ہوتا ہے کہ خوردبین سے بھی نہیں عریاں ہوتا؛ مگر اپنے اندر ایک طوفان خیز توانائی کا حامل ہوتا ہے۔ یہ جوہری توانائی کی زبردست طاقت ہی ہے جو ستاروں کو ایندھن دیتی ہے؛ جیسا کہ ہمارا سورج جس کی کرنیں ہماری زمین کو زندگی بخشتی ہیں۔ انسانیت نے ایٹمی جوہر کی خوفناک طاقت کا جب راز جانا تو اس نے اسے قابو کرنے کا طریقہ بھی سیکھ لیا۔ مگر کیا افسوس ہے کہ اس طوفان خیز توانائی سے اپنی تباہی کا سامان بھی کرلیا ہے؛ کہ ایٹم بم بنالیا ہے جو اگر استعمال ہوگئے تو یہ زمین ایک ویرانہ بن جائے گا۔

 

ایٹم؛ ایک جوہر اسقدر تونائی خیز ہے تو ذرا سوچیں کہ ابن آدم جو اللہ سبحان تعالی کی عطا کردہ روح یعنی امرِ ربی کا حامل ہے کس قدر توانائی اور طاقت کا حامل ہوگا۔ ذرا غور کیجیے کہ آج انسان نے جو ترقی کی ہے اور اپنی زندگی میں جس قدر آسانی اور تعیش کا سامان کرلیا ہے؛ وہ اس ہی جوہر کے سبب ہے جو روح کہلاتی ہے۔ مگر پھر بھی انسانوں کا ایک اژدھام ہے جو گمراہ ہے اور اس راستے یا طریقے پر نہیں ہے جس کی خاطر اسے تخلیق کیا گیا تھا۔

 زمین پر چلتے پھرتے انسانوں کے ہجوم میں کتنے ہیں جو بندہ خدا ہیں؟ کتنے بندہ خدا ہین جو اپنی قدر کی پہچان رکھتے ہیں۔ سرورِ کائناتؐ آقا کریم محمدﷺ کا فرمان ہے کہ "جس آدمی نے اپنی قدر پہچان لی وہ کبھی برباد نہ ہوگا"۔

 اور اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید، فرقان حمید میں فرمایا ہے کہ

 ’’اللہ رنگ اختیار کرو؛ اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔ ‘‘(138سورۃ البقرہ)

اور مزید یہ بھی کہا کہ

اور میں(اللہ) نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے (سورۃ الذاریات، 56)

 پاکستان کے قومی شاعر حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی کتاب ارمغانِ حجاز کی نظم حضرتِ انسان میں ایک شعر عرض کیا ہے کہ

 

اگر مقصودِ کُل مَیں ہُوں تو مجھ سے ماورا کیا ہے

 مرے ہنگامہ ہائے نَو بہ نَو کی انتہا کیا ہے؟

 If I am the end of all, then what lies beyond?

Where lies the limit of my unending adventures?

 ہم اس کی تشریح یوں کرسکتے ہیں کہ اگر یہ حقیقت ہے کہ کل کائنات اور اس کی ساری اشیا کا مطلوب میں آدمی ہی ہوں اور ہر چیز میری خدمت کے لیے پید ا کی گئی ہے تو پھر مجھ سے بالا تو کوئی شے نہیں ہو سکتی ۔ میں ہی ہر شے پر اشرف اور ہر شے سے اعلیٰ ہوں ۔ مگر شرط یہ ہے کہ میں اپنی صلاحیتوں اور صفات سے آگاہ ہو کر اور اپنی خودی کو پہچان کر ایسا مقام حاصل کر لوں ۔ اگر یہ صورت حال مجھ میں پیدا نہ ہو گی تو پھر ہر شے مجھ پر غالب آ جائے گی اور میں مغلوب رہوں گا ۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب اور اپنا خلیفہ اور اس اعتبار سے اپنی صفات کا مظہر بنایا ہے ۔ اگر میں اپنی خودی سے آگاہ ہو جاؤں گا تو ہر شے میری مغلوب ہو جائے گی ۔ یہ نت نئے ہنگامے جو اس کائنات میں خود سے آگا ہ ہونے کے لیے مجھ سے سرزد ہو رہے ہیں ان کی آخر حد کونسی ہے؟ تو کیا ان کی یہی حد ہے کہ میں خدا تو نہیں مگر یہ کہ میں اسکی صفات اور اسما کا مظہر بن سکتا ہوں ۔ اور زمان و مکان کو اپنے قابو میں کر سکتا۔

آج کا مسلمان مشکل میں کیوں ہے؟ مسلمان کہنے کو آزاد ہیں مگر ان کی سوچ و فکر ذہنی پسماندگی کا مظہر ہیں اور حکومتیں غلام ہیں۔ علامہ اقبال کی زندگی میں ہندوستان تو تھا ہی غلامی میں سو اقبال سے بہتر کون انکی مشکل کو آشکارا کرسکتا تھا؛ چنانچہ ضرب کلیم کی ایک غزل میں فرمایا ہے کہ


میسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو

نہیں ہے بندۂ حر کے لیے جہاں میں فراغ

اس شعر میں علامہ اقبال نے آزاد انسان (بندۂ حر) اور غلام ذہن رکھنے والے انسان کے طرزِ زندگی اور سوچ میں فرق واضح کیا ہے۔اقبال کہتے ہیں کہ "فرصت"، یعنی بے کاری، سستی، آرام اور عیش پسندی صرف غلاموں کو نصیب ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کا مقصد نہیں سمجھتے، جو دوسروں کے تابع ہوتے ہیں، اور جو ذاتی یا قومی ذمہ داریوں سے آزاد ہوتے ہیں, اُن کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے، مگر وہ اس وقت کو کسی عظیم مقصد کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، "بندۂ حر" یعنی وہ انسان جو حقیقی معنوں میں آزاد ہے، خود شعور رکھتا ہے، خودی کا حامل ہے، اور جو اپنی زندگی کو ایک بلند مقصد کے تابع کر چکا ہے — اس کے لیے دنیا میں فراغت یا سستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کی زندگی مسلسل عمل، جدوجہد، خدمت، تعمیر اور بیداری سے عبارت ہے۔ اقبال یہاں غلامی کو صرف سیاسی یا جسمانی حالت نہیں بلکہ ذہنی و روحانی غلامی بھی سمجھتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آزادی ایک مسلسل حرکت و جدوجہد کا نام ہے، نہ کہ آرام کا۔ جو شخص حقیقتاً آزاد ہے، وہ ہر لمحہ ایک عظیم مقصد کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم، اپنی ملت، اور انسانیت کی خدمت میں جُتا رہتا ہے۔ اسے فرصت یا آرام کا خیال بھی نہیں آتا۔یہ شعر عمل، بیداری، اور خودی کے فلسفے کی نہایت خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک آزادی کا مطلب ہے ذمہ داری، مصروفیت، اور مسلسل جدوجہد جبکہ غلامی کا مطلب ہے سستی، بے مقصدی اور غفلت۔

 اقبال ہی نے کہا ہے کہ

 

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب و کار آفریں، کارکُشا، کارساز

خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات

ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز

اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو

رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

 

اے بندہ خدا اپنے آپ کو پہچان تب ہی اپنی قدر کو جان پائے گا۔ یہ انسانی عقل و خرد کا نتیجہ ہے کہ ایٹم بم بنا ہے اور اس جہان و رنگ و بو میں اس قدر تیزی اور ترقی ہے۔ ایک مسلمان قوم ہی ہے جو مسلسل تنزلی اور پسماندگی کا شکار ہے۔ اگر ہم اولاد آدم خود کو مومن یا بندۃ خدا والی عقل و فہم اور ادراک کا حامل دیکھنا چاہتے ہیں کہ اپنی مقصدِ حیات کو حاصل کرسکیں اور اپنے جوہرِ قابل کے قدر کو جان لیں تو ضروری ہے کہ ہمیں اپنے جوہر کو یعنی اپنے آپ کو کوئی شان دینا ہوگا؛ کسی قابل بننا ہوگا؛ تب ہی کامیاب انسان اور قوم بن پائیں گے۔


اس تحریر کو مرتب کرنے کے لیے آزاد ویب نیٹ سے مواد کا استفادہ کیا گیا ہے۔

More Posts